بلوچستان کی سرکاری جامعات شدید مالی بحران کا شکار، اساتذہ اور طلبہ کا ہنگامی گرانٹ کا مطالبہ
کوئٹہ / تربت: بلوچستان کی سرکاری جامعات کو تاریخ کے بدترین مالیاتی بحران کا سامنا ہے جہاں اساتذہ، محققین اور ملازمین کئی ماہ سے تنخواہوں اور پنشن کی بروقت ادائیگی کے منتظر ہیں جبکہ طلبہ کو وظائف اور ہاسٹل سہولیات میں کٹوتیوں کا سامنا ہے۔
تعلیمی مستقبل کا سوال
اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشن اور طلبہ تنظیموں کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بلوچستان میں اعلیٰ تعلیم کا فروغ صوبے کی ترقی کی بنیادی شرط ہے، اس لیے وفاقی ہائر ایجوکیشن کمیشن اور صوبائی حکومت فوری طور پر جامعات کے لیے مستقل بیل آؤٹ فنڈ منظور کریں۔
متعلقہ خبریں اور مضامین
بلوچستان میں شدید خشک سالی: بالائی اور وسطی اضلاع میں گندم کی فصل اور باغات کو خطرات لاحق
محکمہ موسمیات کے مطابق قلات، مستونگ، زیارت، پشین اور ژوب میں بارشوں میں پچپن فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس سے…
بلوچستان کی سرکاری جامعات شدید مالی بحران کا شکار، اساتذہ اور طلبہ کا ہنگامی گرانٹ کا مطالبہ
جامعہ بلوچستان سمیت صوبے کی بڑی جامعات میں تنخواہوں، پنشن اور تحقیقی سرگرمیوں کے لیے فنڈز کی کمی کے باعث تعلیمی عمل…
کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر ٹرانسپورٹرز کا احتجاج چوتھے روز میں داخل، تجارتی سرگرمیاں معطل
قومی شاہراہ این-25 پر سفر میں تاخیر، سڑک کی خستہ حالی اور چیک پوسٹوں پر طویل انتظار کے خلاف ٹرانسپورٹ یونینز اور…