📅 جمعرات، 5 نومبر 2026ء — حقائق | تجزیہ | بہتر کل کے لیے
اداریہ

اداریہ: بلوچستان کا خاموش آبی بحران — فوری اقدامات نہ ہوئے تو انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے

کوئٹہ، قلات اور مکران میں زیرِ زمین پانی کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو چکے ہیں۔ چھوٹے ڈیموں کی تعمیر اور کاریزوں کی بحالی وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
بلوچستان میں آبی ذخائر اور خشک سالی
آڈیو خبر سنیں
0:58

اداریہ بیداری ڈاٹ نیٹ: پانی زندگی کی بقا کا بنیادی ذریعہ ہے، اور آج بلوچستان کو اپنی تاریخ کے سب سے سنگین آبی بحران کا سامنا ہے۔ کوئٹہ ویلی سے لے کر گوادر اور چاغی تک پینے کے صاف پانی کا حصول روز بروز مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

مستقل حل کی ضرورت

کاغذی منصوبوں کے بجائے بارانی پانی کو ذخیرہ کرنے کے لیے سائنسی بنیادوں پر چھوٹے ڈیم تعمیر کیے جائیں، قدیم کاریز نظام کو محفوظ بنایا جائے اور زرعی شعبے میں جدید ڈرپ ایریگیشن متعارف کرائی جائے۔


متعلقہ خبریں اور مضامین