کوئٹہ: بلوچستان کے دور دراز اضلاع میں بنیادی مراکزِ صحت اور ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتالوں میں طبی عملے، لیڈی ڈاکٹرز اور ضروری ادویات کی شدید قلت کے باعث زچہ و بچہ کی شرحِ اموات تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے۔
دیہی اضلاع کی صورتحال
طبی ماہرین کی تازہ رپورٹ کے مطابق آواران، واشک، کوہلو، ڈیرہ بگٹی اور موسیٰ خیل کے دیہی علاقوں میں مریضوں کو معمولی پیچیدگیوں کی صورت میں بھی سینکڑوں کلومیٹر کا سفر طے کر کے کوئٹہ یا کراچی لانا پڑتا ہے۔ ڈاکٹروں کی تنظیم نے صوبائی محکمہ صحت سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام بنیادی مراکزِ صحت کو چوبیس گھنٹے فعال بنایا جائے۔