مچھ، دکی اور ہرنائی کی کوئلہ کانیں: تاریک سرنگوں میں محنت کشوں کی زندگی اور حفاظتی انتظامات کا سوال
ہزاروں فٹ گہری کانوں میں زہریلی گیس، فرسودہ آلات اور حفاظتی قوانین پر عملدرآمد نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال درجنوں کان کن جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔
گراؤنڈ رپورٹ: بلوچستان کے اضلاع دکی، ہرنائی، مچھ، چمالنگ اور سور رینج کی کوئلہ کانیں ملک بھر کی صنعتوں کو ایندھن فراہم کرتی ہیں، لیکن ان کانوں کے اندر اترنے والے ہزاروں مزدور آج بھی اکیسویں صدی کی بنیادی حفاظتی سہولیات سے محروم ہیں۔
مائنز سیفٹی قوانین پر عملدرآمد
لیبر تنظیموں کا کہنا ہے کہ کانوں میں میتھین گیس ڈیٹیکٹرز، وینٹیلیشن سسٹم اور فوری ریسکیو یونٹس کی تنصیب کو لازمی قرار دے کر سینکڑوں قیمتی انسانی جانیں بچائی جا سکتی ہیں۔
متعلقہ خبریں اور مضامین
تربت اور کوئٹہ کے بک اسٹالز: بلوچستان میں کتاب دوستی اور علمی بیداری کا خاموش انقلاب
چھوٹے شہروں اور قصبوں میں کھلنے والی لائبریریاں، ادبی محفلیں اور کتب میلے بلوچستان کے نوجوانوں کے فکری سفر کی نئی تصویر…
ہنگول کے ساحل سے چاغی کے صحرا تک: موسمیاتی تبدیلی خانہ بدوش گلہ بانوں کی زندگی کیسے بدل رہی ہے؟
طویل خشک سالی اور بے وقت طوفانی بارشوں نے بلوچستان کے روایتی مالدار اور خانہ بدوش خاندانوں کو صدیوں پرانے راستے بدلنے…