سرندہ اور بینجو کی امر دھنیں: بلوچستان کے لوک فنکار صدیوں پرانا موسیقی کا ورثہ کیسے زندہ رکھے ہوئے ہیں؟
بلوچی اور براہوئی لوک موسیقی میں سرندہ، بینجو، دوتار اور نل کی مدھر آوازیں اس سرزمین کی تاریخ، عشق اور مزاحمت کی امین ہیں۔
ثقافت و ادب ڈیسک: بلوچستان کی لوک موسیقی اپنی گہرائی، سوز اور فنی پختگی کے اعتبار سے خطے کی امیر ترین موسیقی کی روایات میں شمار ہوتی ہے۔ استاد فیض محمد بلوچ، مرید بلیدی، سخی بخشو اور نور خان بزنجو سے لے کر آج کے نوجوان فنکاروں تک یہ روایت نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے۔
لوک فنکاروں کی سرپرستی
ثقافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ روایتی ساز بنانے والے کاریگروں اور لوک فنکاروں کی سرکاری و عوامی سطح پر سرپرستی کی جائے اور موسیقی کی اکیڈمیاں فعال بنائی جائیں۔
متعلقہ خبریں اور مضامین
بلوچی دوچ: روایتی کشیدہ کاری اور آئینہ کاری جو دیہی خواتین کی معاشی خودمختاری کا ذریعہ بن رہی ہے
بلوچستان کے مختلف علاقوں کے مخصوص ٹانکوں اور رنگوں سے مزین بلوچی دوچ اب آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے عالمی فیشن…
عطا شاد اور گل خان نصیر کو خراجِ عقیدت: جدید بلوچی شاعری اور ادب کے درخشاں ستارے
ادبی سیمینارز میں مقررین نے میر گل خان نصیر، سید ظہور شاہ ہاشمی اور عطا شاد کی ادبی و فکری خدمات پر…