ثقافت و ادب

سرندہ اور بینجو کی امر دھنیں: بلوچستان کے لوک فنکار صدیوں پرانا موسیقی کا ورثہ کیسے زندہ رکھے ہوئے ہیں؟

بلوچی اور براہوئی لوک موسیقی میں سرندہ، بینجو، دوتار اور نل کی مدھر آوازیں اس سرزمین کی تاریخ، عشق اور مزاحمت کی امین ہیں۔
تحریر: بیداری ڈیسک • تاریخِ اشاعت: 3 نومبر 2026 شیئر کریں:
بلوچی لوک موسیقی اور ثقافتی ورثہ

ثقافت و ادب ڈیسک: بلوچستان کی لوک موسیقی اپنی گہرائی، سوز اور فنی پختگی کے اعتبار سے خطے کی امیر ترین موسیقی کی روایات میں شمار ہوتی ہے۔ استاد فیض محمد بلوچ، مرید بلیدی، سخی بخشو اور نور خان بزنجو سے لے کر آج کے نوجوان فنکاروں تک یہ روایت نسل در نسل منتقل ہو رہی ہے۔

لوک فنکاروں کی سرپرستی

ثقافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ روایتی ساز بنانے والے کاریگروں اور لوک فنکاروں کی سرکاری و عوامی سطح پر سرپرستی کی جائے اور موسیقی کی اکیڈمیاں فعال بنائی جائیں۔


متعلقہ خبریں اور مضامین