بلوچستان میں خواتین اور نوجوانوں کی پرامن شہری تحریکیں سیاسی منظرنامے کو نئی شکل دینے لگیں
مکران سے کوئٹہ تک تعلیم یافتہ خواتین اور نوجوان آئینی حقوق، تعلیم اور سماجی انصاف کے لیے جمہوری اور پرامن جدوجہد کے نئے باب رقم کر رہے ہیں۔
کوئٹہ / تربت: بلوچستان کے سیاسی اور سماجی منظرنامے میں حالیہ برسوں کی سب سے نمایاں تبدیلی تعلیم یافتہ خواتین اور نوجوانوں کی قیادت میں ابھرنے والی پرامن شہری تحریکیں ہیں، جنہوں نے عوامی مسائل کو قومی اور عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے۔
جمہوری اور آئینی شعور
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق کتب میلوں، سیمینارز اور پرامن دھرنوں نے ثابت کیا ہے کہ بلوچستان کی نئی نسل علم، دلیل اور جمہوری طریقوں سے اپنے حقوق حاصل کرنے کا پختہ شعور رکھتی ہے۔
متعلقہ خبریں اور مضامین
بلوچستان اسمبلی میں وسائل کے فارمولے اور ضلعی ترقیاتی فنڈز کی غیر منصفانہ تقسیم پر اپوزیشن کا واک آؤٹ
حزبِ اختلاف کے اراکین نے قدرتی وسائل کی رائلٹی، این ایف سی ایوارڈ اور پسماندہ اضلاع کے ترقیاتی بجٹ پر تفصیلی پارلیمانی…
کوئٹہ میں آل پارٹیز کانفرنس کا اعلامیہ: بلوچستان کے مسائل کے سیاسی حل اور مفاہمتی کمیشن کے قیام کا مطالبہ
قوم پرست اور جمہوری جماعتوں کے رہنماؤں نے متفقہ قرارداد میں کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ سیاسی ہے جسے باہمی احترام، آئین…